امریکی سافٹ ڈرنک، قاتل زندگی

ٹائئل : بیدار ھونے تک

عنوان: امریکی سافٹ ڈرنک، قاتل زندگی۔!!

کالمکار : جاوید صدیقی

دنیائے تاریخ گواہ ھے کہ ارض دنیا پر وحشت و دہشت پھیلانے والا ملک اور ریاست امریکہ ھے، سلطنت عثمانیہ کے دور سے ہی امریکہ اور برطانیہ نے دنیا کو اپنی مغلوبیت میں لانے کیلئے لا تعداد چالیں سازشیں اور مکاریاں کی اس وقت بھی دنیا بھر میں ایک جانب مسلمانوں کی تعداد کثیر تھی تو دوسری جانب دنیا کے کئی بڑے حصوں میں اقتدار سلطنت اور بادشاہت کررھے تھے، مسلمانوں نے ہر دور میں بہادری شجاعت اور جرأت کا مظاہرہ پیش کرتے رھے کئی فتوحات اور جنگیں مسلم سپہ سالار کی شاندار کارکردگی کو آج بھی یاد کرتی ھیں کیونکہ وہ دین محمدی ﷺ کے اصولوں اقوال و ہدایات کو ہرگز ہرگز فراموش نہیں کرتے تھے اللہ نے ایسے سپہ سالاروں، حکمرانوں، بادشاہوں کو عزت و وقار اور بلند مقام عطا کیا یہی نہیں بلکہ اسلام مخالف قوتوں اور دشمنوں پر حاوی رکھا۔

حقیقت تو یہ ھے کہ امریکہ کو اسرائیلی چلا رھے ھیں امریکہ کی پالیسیاں ھوں یا پلاننگ تھینک ٹینک ھوں یا صنعت و حرفت سیکیورٹی ھو یا عسکری قوت سب پر اسرائیلی برجمان ھیں اسے لئے اس حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے کہ اسرائیل امریکہ کی نا جائز اولاد ھے۔ سنہ انیس سو اڑتالیس کو فلسطین کے ایک بہت ہی چھوٹے حصے کو اسرائیلی ریاست بنا ڈالی اور پھر اسے خود ہی یو این او کا ممبر بناتے ھوئے مکمل سپورٹ جاری رکھی یہ عمل تا حال جاری ھے، ون ورلڈ آڈر کی سوچ رکھنے والے امریکی یہودیوں زائینسٹوں نے مسلمانوں کی نسل کشی کیلئے کئی غلیث و خبیظ مزموم عزائم کی تکمیل کیلئے مسلم ممالک میں بے ایمانوں اور دنیا پرستوں کو منتخب کرکے عملی جامع پہنایا ان ہی قاتل اعمال میں مسلم دنیا میں زہریلی مشروبات کا عادی بنانا بھی تھا۔

جو آج پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں نہ صرف رواج بن گیا ھے بلکہ چھوٹی سی عمر کے بچہ سے لیکر اسی سال تک کے بوڑھے اس ظالم و قاتل مشروبات کے عادی دکھائی دیتے ھیں، ھماری پاکستانی حکومت ستر سالوں سے بھنگ پی ھوئی ھے اور شائد کتنے برسوں مزید پیتی رھے گی اس کی سب سے بڑی وجہ ھماری قوم شعور سے نابلد ھے اور ھمارے بااختیار امریکیوں و اسرائیلیوں کے زر خرید غلام تھے ھیں اور نجانے کب تک رہیں گے یہاں میں اپنے معزز قارئین کو اپنے پڑوسی ملک جو دنیا کی بڑی گنجان آبادیوں میں شمار ھوتا ھے انکے حکمران و عوام کے شعور کی بلندی اور اپنے ملک و قوم سے وفاداری کس حد تک بلند و بالا ھے میرے اس کالم سے اندازہ لگا سکتے ھیں۔۔۔۔۔

معزز قارئین!!

اب میں آپ کو امریکی یہودیوں کی پروڈکٹ کے بارے میں بتاتا ھوں کہ وہ دنیا بھر کے انسانوں کی صحت اور موت کے براہ راست مجرم ھیں حالیہ عرصہ میں “چین” نے انسانی استعمال کیلئے کوکا کولا پر پابندی لگادی اور اسے صفائی کے مواد کے طور پر درجہ بند کردیا۔ “چین” میں، کوکا کولا کو سیوریج کلینر کے طور پر فروخت کیا جائے گا اور امریکی کوکا کولا کمپنی کے تیار کردہ کوکا کولا سافٹ ڈرنک کو چینی مرکزی کمیٹی برائے فوڈ کوالٹی کے فیصلے کے مطابق اس زمرے میں منتقل کیا جائے گا۔

پائپوں کی صفائی کیلئے تجویز کردہ سینیٹری مائعات. اس سخت فیصلے کی وجہ مشروبات کے مواد اور انسانی صحت پر اس کے اثرات پر سائنسی تحقیق ہے۔ تجربات اور تحقیق کیلئے چینی جیلوں میں پانچ سو سے زائد قیدیوں کا انتخاب کیا گیا۔ انہوں نے چھ ماہ تک دن میں تین بار کوکا کولا پیا۔ تجربہ پچھہتر افراد کی موت کے ساتھ ختم ہوا، اور ایک سو پچاس لوگ متاثر ہوئے۔ دیگر معذور تھے، اور باقی دائمی بیماریوں کی شدت میں مبتلا پائے گئے اور ان کی صحت کو مختلف درجات کی شدت کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا.

ان اعداد و شمار کی بنیاد پر، اتھارٹی سافٹ ڈرنکس کے انسانی زندگی اور صحت کے لیے خطرے کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچی، جس کی وجہ سے چینی ملک میں تمام گروسری اسٹورز سے کوکا کولا کو فوری طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک ہی وقت میں، مائع کی مثبت خصوصیات کو نوٹ کیا جاتا ہے. خاص طور پر، غسل خانوں، کچن میں گٹر کے پائپوں اور بیت الخلاء کیلئے ایک مؤثر کلینر کے طور پر پلمبنگ میں. “ترکی” میں اور دنیا میں پہلی بار امریکی کمپنی کوکا کولا کے خلاف اس مشروب کی ترکیب کی وجہ سے ٹرائل شروع کیا گیا جو پھیپھڑوں، جگر، تھائیرائیڈ اور لیوکیمیا کا سبب بن سکتا ہے۔ “بھارت” میں، سپریم کورٹ نے کوکا کولا مشروبات کی تقسیم پر ان کے صحت کے خطرات کی وجہ سے پابندی لگا دی۔ “لاتویا” نے پرائمری اسکولوں میں کوکا کولا اور پیپسی کی تقسیم پر پابندی عائد کردی، اور “انگلینڈ” اور “یوکرین” میں، اسکولوں میں ان کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی…

کوکا کولا کے بارے میں حقائق : ۔۔۔

اس میں آرتھوفاسفورک ایسڈ کے مواد کی وجہ سے کیتلی اور باتھ روم میں تختی سے زنگ یا نام نہاد پیمانے کو ہٹانے میں اسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کچھ ایشیائی ممالک میں، کسان کیڑوں اور دیگر کو مارنے کیلئے کوکا کولا کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ کیمیکلز سے سستا ہے، اور یہ وہی اثر دیتا ہے. دنیا بھر میں ہر سیکنڈ میں آٹھ ہزار کپ کوکا کولا مشروبات استعمال کیے جاتے ہیں. مندرجہ بالا تمام چیزیں صرف کوکا کولا پر لاگو نہیں ہوتی ہیں، بلکہ دیگر تمام سافٹ ڈرنکس خطرناک ہیں،

جیسے پیپسی اور ہر قسم کے دیگر مشروبات. ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ مینوفیکچرنگ کمپنیاں صرف منافع کی پرواہ کرتی ہیں اور مکمل طور پر تجارت کے مقصد کیلئے انسانی صحت کا خیال نہیں رکھتیں۔ جہاں تک آپ کی صحت کا خیال رکھنا ہے، یہ صرف آپ کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا آپ اسے پینے سے پرہیز کریں اور اپنے اردگرد رہنے والوں کو مشورہ دیں کہ وہ اسے نہ پییں… درحقیقت یہ پینا مزیدار ہے کیونکہ اس میں تیزاب، شکر اور کیمیکل ہوتے ہیں۔ لیکن ایک ہی وقت میں، یہ خطرناک اور مہلک ہے اور کینسر، آسٹیوپوروسس اور جلد یاداشت میں کمی لاتا ہے۔ زبردست ڈٹرجنٹ داغ ہٹانے والا۔ زہریلا ۔۔۔۔

معزز قارئین!!

یقیناً آپ نے قرآن کا مطالعہ ضرور کیا ھوگا اسی مقدس کتاب میں رب الکائنات نے مسلمانوں کو متنبہ کرتے ھوئے ارشاد فرمایا سورة مائدہ آیت 120 ترجمہ : “* اے ایمان والو یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا*” ۔۔۔ اس کھلی تنبیہ کے باوجود اگر کوئی مسلم ریاست مسلم حکمران اور مسلم مقتدر قوتیں ان دشمنان اسلام سے دوستی کا دم بھرتی ھیں اور وہ اپنی وفاداری میں دین محمدی ﷺ سے حدود کراس کرلیتے ھیں دراصل وہ خود کو اور اپنے ملک کو تباہی و بربادی میں جھونک رھے ہوتے ھیں

ایسے مجرموں اور غداروں کی سزا سر قلم ھے۔ جو اسلامی دائرہ اور اپنی ریاست و ملک و قوم کا تحفظ رکھتے ھوئے دنیاوی معاملات طے کرنا چاہتے ھیں اسے عمل کو اسلام نے اجازت دی ھے کیونکہ اس عمل کے ذریعے اپنا وقار عزت اور مقام بتایا جاسکتا ھے۔ قومیں وہی بلند ھوتی ھیں جنکے حکمرانوں میں غیرت ایمانی، عزت نفس کوٹ کوٹ کر بھری ھوتی ھے بلند قوم کے حکمران اقتدار کو عزت و وقار کے سامنے ٹھوکر مار دیتے ھیں

ایسے لوگ سپہ سالار طارق بن زیاد، سلطان عبدالحمید، سلطان نورالدین زنگی، سلطان صلاح الدین ایوبی، سپہ سالار حیدر علی، سپہ سالار تیمور لنک، سپہ سالار محمد بن قاسم و دیگرز کے ناموں سے آج بھی قدر منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے اور میر جعفر ہو یا میر صادق ان پر مسلسل لعنت ملامت ہی کی جاتی ھے اب دیکھنا یہ ھوگا کہ من حیث القوم ھم سب عوام، تاجران اور حکمران کس قدر ایمان سے جڑے ھوئے ھیں عوامی سطح پر امریکی پروڈکٹ کی خریدنا بند کردیں،

تجارتی سطح پر تاجر حضرات امریکی پروڈکٹ کو اپمورٹ کرنا بند کردیں حکومتی اور سفارتی سطح پر حکومت وقت بے انتہا شرائط و ضوابط میں قید کردیں کہ سب سے پہلے ھماری لیباٹریز میں چیکنگ کے بعد عوامی سطح پر منظوری لی جائیگی گویا امریکہ سمیت یورپین اور جہاں جہاں زائینسٹ موجود ھیں انہیں احساس ھوجائے کہ آج کا مسلم حکمران ایمان یافتہ ھے۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top